مصنوعی پلکیں اور ناخن لگانا: وضو اور شرعی حکم
شادی بیاہ اور تقریبات میں مصنوعی پلکیں (False Eyelashes)، Eyelash Extensions، Acrylic یا Gel Nails اور نیل پالش اب عام ہو چکی ہیں۔ مگر بہت سی خواتین کے ذہن میں یہ سوال رہتا ہے: کیا یہ جائز ہیں؟ اور سب سے اہم بات: کیا ان کے ساتھ وضو اور غسل درست ہوتا ہے؟ اس مضمون میں ان سوالات کا جواب احادیث اور فقہا کی آرا کی روشنی میں دیا گیا ہے۔
مصنوعی پلکیں: بال جوڑنے کا حکم
مصنوعی پلکوں کا مسئلہ بال جوڑنے (وصل) کے مسئلے سے جڑا ہوا ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’لَعَنَ اللَّهُ الوَاصِلَةَ وَالمُسْتَوْصِلَةَ‘‘، اللہ نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی پر لعنت فرمائی (صحیح البخاری، حدیث: 5934)۔ اور حضرت معاویہؓ کی روایت میں بال جوڑنے کو ’’الزور‘‘، یعنی دھوکا، کہا گیا ہے (صحیح البخاری، حدیث: 5938)۔ فقہا نے اس ممانعت کی بنیادی وجہ دھوکا اور انسانی بالوں کا استعمال بیان کی ہے (رد المحتار، ج 6، ص 373)۔
اس روشنی میں:
- انسانی بالوں سے بنی پلکیں: یہ دوسرے انسان کے بال جوڑنا ہے، اس لیے جمہور فقہا کے نزدیک جائز نہیں۔
- مصنوعی ریشوں (Synthetic) سے بنی پلکیں: اس میں علما کا اختلاف ہے۔ بعض علما اسے بال جوڑنے کے حکم میں رکھ کر منع کرتے ہیں۔ جبکہ بعض علما، فقہ شافعی کی اس عبارت کی روشنی میں کہ شوہر کے لیے زینت جائز مقصد ہے (حاشیۃ الجمل، ج 1، ص 418)، شادی شدہ عورت کے لیے شوہر کی خاطر، دھوکے کے بغیر، عارضی مصنوعی پلکوں کی گنجائش دیتے ہیں۔ احتیاط یہ ہے کہ ان سے بچا جائے۔
- کاجل، مسکارا (Mascara) اور Lash Lifting: یہ اصل پلکوں ہی کو سنوارنا ہے، بال جوڑنا نہیں، اس لیے جائز ہیں۔
مصنوعی پلکوں کے ساتھ وضو
- Strip Lashes (پٹی والی پلکیں): یہ گوند سے پلکوں کے اوپر چپکائی جاتی ہیں اور پانی کو اصل پلکوں اور جلد تک پہنچنے سے روکتی ہیں۔ اس لیے وضو اور غسل سے پہلے انہیں اتارنا ضروری ہے۔
- Eyelash Extensions: یہ ہر پلک کے ساتھ الگ الگ گوند سے جوڑی جاتی ہیں۔ چونکہ گوند اصل پلکوں تک پانی پہنچنے میں رکاوٹ بن سکتی ہے، اس لیے بہت سے علما ان کے ساتھ وضو کو محلِ نظر قرار دیتے ہیں۔ ان کے بارے میں کسی معتبر عالم سے رہنمائی لینا بہتر ہے۔
نیل پالش اور وضو
نیل پالش ناخنوں پر پانی روکنے والی تہ جما دیتی ہے، اس لیے:
- نیل پالش کے ساتھ وضو اور غسل درست نہیں، جب تک اسے اتار نہ دیا جائے۔
- وضو کرنے کے بعد نیل پالش لگائی جا سکتی ہے، اور اس وضو سے نماز درست ہوگی؛ مگر اگلے وضو سے پہلے اسے اتارنا ہوگا۔
- حیض کے دنوں میں، جب نماز نہیں پڑھنی ہوتی، نیل پالش لگانے میں حرج نہیں؛ البتہ پاک ہونے کے بعد غسل سے پہلے اسے اتارنا ضروری ہے۔
- ’’Breathable‘‘ یا ’’حلال‘‘ نیل پالش: کچھ کمپنیاں دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کی پالش سے پانی گزر جاتا ہے۔ یہ دعویٰ ہمیشہ یقینی نہیں ہوتا، اس لیے احتیاط یہی ہے کہ وضو سے پہلے اسے بھی اتار دیا جائے، یا کسی معتبر تحقیق کے بعد استعمال کیا جائے۔
مہندی: بہترین متبادل
ناخنوں پر مہندی لگانا نہ صرف جائز بلکہ پسندیدہ ہے، کیونکہ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے ایک خاتون سے فرمایا کہ اگر تم عورت ہو تو اپنے ناخنوں کو مہندی سے رنگتی (سنن النسائی، حدیث: 5089)۔ مہندی صرف رنگ دیتی ہے، تہ نہیں جماتی، اس لیے اس کے ساتھ وضو اور غسل بالکل درست ہیں۔
Acrylic اور Gel Nails
مصنوعی ناخن، جیسے Acrylic یا Gel Nails، اصل ناخنوں کے اوپر چپکائے جاتے ہیں اور پانی کو اصل ناخن تک پہنچنے سے روکتے ہیں۔ اس لیے:
- ان کے ساتھ وضو اور غسل درست نہیں۔ وضو میں ہاتھوں کا ہر حصہ، ناخنوں سمیت، دھونا فرض ہے۔
- چونکہ یہ آسانی سے نہیں اترتے، اس لیے جو خاتون نماز پڑھتی ہو، اسے ان سے بچنا چاہیے۔
- اگر کسی تقریب کے لیے لگوانے ہوں تو صرف اسی وقت کے لیے لگوائیں جب نماز نہ پڑھنی ہو، مثلاً حیض کے ایام میں، اور پاک ہونے پر غسل سے پہلے اتار دیں۔
لمبے ناخن اور فطرت کی سنت
ناخن تراشنا فطرت کی سنتوں میں سے ہے (صحیح مسلم، حدیث: 261)۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ناخن تراشنے، مونچھیں کاٹنے اور جسم کے غیر ضروری بال صاف کرنے کے لیے ہمارے لیے یہ وقت مقرر کیا گیا کہ چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑیں (صحیح مسلم، حدیث: 258)۔ اس لیے فیشن کے لیے بہت لمبے ناخن رکھنا اس سنت کے خلاف ہے، اور لمبے ناخنوں کے نیچے میل جمع ہونے سے صفائی بھی متاثر ہوتی ہے۔
آخری بات
زینت عورت کا حق ہے، مگر نماز اور وضو اس سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ کاجل، مسکارا اور مہندی جیسی زینتیں جائز ہیں اور وضو میں رکاوٹ نہیں بنتیں۔ مصنوعی پلکوں، نیل پالش اور مصنوعی ناخنوں کے معاملے میں اصل اصول یاد رکھیے: جو چیز پانی کو جلد یا ناخن تک پہنچنے سے روکے، وہ وضو اور غسل سے پہلے اتارنی ضروری ہے۔ ایسی زینت اختیار کیجیے جو آپ کی نماز کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے۔