غیب پر ایمان کیوں ضروری ہے؟


ایک نوجوان ڈاکٹر ہسپتال کے وارڈ میں مریض کا معائنہ کر رہا ہے۔ وہ مریض کے سینے پر ہاتھ رکھتا ہے، نبض دیکھتا ہے، اور رپورٹ میں لکھتا ہے: "دل کمزور ہے۔" اب سوچیے، کیا اس ڈاکٹر نے کبھی اس مریض کا دل اپنی آنکھ سے دیکھا؟ نہیں۔ اس نے صرف چند اثرات دیکھے — دھڑکن کی رفتار، سانس کا اتار چڑھاؤ، رپورٹ کے اعداد — اور ان اثرات سے ایک ایسی حقیقت کا فیصلہ کر دیا جو خود اس کی آنکھ کے سامنے کبھی نہیں آئی۔ کیا ہم اس ڈاکٹر کو غیر عقلی کہیں گے؟ ہرگز نہیں، بلکہ یہی تو طب کی بنیاد ہے۔


عجیب بات یہ ہے کہ یہی انسان، جو روزمرہ زندگی میں سینکڑوں ایسی حقیقتوں پر یقین رکھتا ہے جنہیں اس نے کبھی نہیں دیکھا، جب دین کی بات آتی ہے تو اچانک سوال اٹھاتا ہے: "میں کسی ایسی چیز پر کیسے یقین کروں جسے میں نے دیکھا ہی نہیں؟" یہی وہ تضاد ہے جسے سمجھنا آج کے دور میں سب سے زیادہ ضروری ہے۔


غیب کا مطلب کیا ہے؟


پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ غیب کا مطلب "کچھ نہ ہونا" نہیں، بلکہ "موجود ہونا مگر حواس سے پرے ہونا" ہے۔ یعنی غیب اس چیز کا نام ہے جو حقیقت میں موجود ہے، مگر آنکھ، کان، ناک، زبان یا ہاتھ کی پہنچ سے باہر ہے۔ اب ذرا سوچیے، کیا انسانی زندگی ایسی حقیقتوں سے خالی ہے؟ بالکل نہیں، بلکہ زندگی کا بیشتر حصہ ہی انہی غیر مرئی حقیقتوں پر کھڑا ہے۔


پہلی دلیل: ماضی پر ایمان بھی غیب پر ایمان ہے


آپ یقین رکھتے ہیں کہ نپولین نامی ایک جرنیل کبھی موجود تھا، کہ سلطنتِ عثمانیہ سینکڑوں سال تک قائم رہی، کہ آپ کے دادا کبھی زندہ تھے۔ کیا آپ نے ان میں سے کسی چیز کو اپنی آنکھ سے دیکھا؟ نہیں۔ آپ نے صرف کتابیں پڑھیں، تصویریں دیکھیں، یا لوگوں کی زبانی سنا، اور اس بنیاد پر ایک ایسی حقیقت کو قبول کر لیا جو خود آپ کے مشاہدے میں کبھی نہیں آئی۔ اگر تاریخ پر یقین رکھنا عقلی ہے، حالانکہ ہم نے وہ زمانہ نہیں دیکھا، تو پھر ان حقیقتوں پر یقین رکھنا جو انبیاء کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوئیں، عقل کے خلاف کیسے ہو سکتا ہے؟


دوسری دلیل: دوسرے انسانوں کے ذہن پر ایمان


فلسفے میں ایک مشہور مسئلہ ہے جسے "دوسرے ذہنوں کا مسئلہ" کہا جاتا ہے۔ آپ کے سامنے بیٹھا شخص مسکرا رہا ہے، اور آپ فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ وہ خوش ہے۔ مگر ذرا سوچیے، کیا آپ نے کبھی اس کی خوشی کو، اس کے احساس کو، اس کے اندر کی کیفیت کو اپنی آنکھ سے دیکھا؟ نہیں۔ آپ نے صرف ایک چہرے کی حرکت دیکھی اور اس سے ایک ایسی داخلی حقیقت پر یقین کر لیا جو ہمیشہ کے لیے آپ کی پہنچ سے باہر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ نے آج تک کسی بھی دوسرے انسان کا "احساس" براہ راست نہیں دیکھا، پھر بھی آپ اپنی پوری زندگی اسی یقین پر گزار دیتے ہیں کہ باقی انسان بھی آپ کی طرح محسوس کرتے ہیں۔ یہ خالص غیب پر ایمان ہے، مگر کوئی اسے غیر عقلی نہیں کہتا۔


تیسری دلیل: مستقبل پر بھروسہ

انسان اپنی پوری زندگی مستقبل پر یقین کی بنیاد پر گزارتا ہے۔ آپ بینک میں پیسہ جمع کرواتے ہیں، اس یقین پر کہ کل وہ پیسہ وہاں محفوظ ہوگا۔ آپ بیج بوتے ہیں، اس یقین پر کہ چند مہینے بعد فصل اگے گی۔ آپ انشورنس کرواتے ہیں، اس یقین پر کہ کوئی نامعلوم حادثہ پیش آ سکتا ہے۔ یہ سب مستقبل ہے ایک ایسی چیز جسے کسی نے کبھی نہیں دیکھا، جو ابھی وجود میں ہی نہیں آئی، پھر بھی انسان اس پر اتنا پختہ یقین رکھتا ہے کہ اپنی ساری زندگی کی منصوبہ بندی اسی پر کر دیتا ہے۔ قرآن اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے:


الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ


"وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔"


(سورۃ البقرہ، آیت ۳)


یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ قرآن نے ایمان کی سب سے پہلی صفت ہی یہ رکھی — غیب پر ایمان — کیونکہ یہی وہ صلاحیت ہے جو انسان کو باقی مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے: حواس کی حد سے آگے دیکھنے کی صلاحیت۔


چوتھی دلیل: کیا صرف آنکھ ہی سچائی کا پیمانہ ہے؟


یہاں ایک گہرا سوال جنم لیتا ہے: اگر ہم یہ اصول بنا لیں کہ "جو نظر نہ آئے وہ موجود نہیں"، تو کیا یہ اصول خود اپنی کسوٹی پر پورا اترتا ہے؟ کیا آپ نے کبھی "انصاف" کو دیکھا ہے؟ کیا "محبت" کا کوئی رنگ ہے؟ کیا "سچائی" کی کوئی شکل ہے؟ یہ سب وہ حقیقتیں ہیں جن کے بغیر انسانی زندگی، رشتے، معاشرہ، عدالت — کچھ بھی قائم نہیں رہ سکتا، مگر ان میں سے کسی ایک کو بھی آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا۔ اگر انسان صرف آنکھ کی شہادت کو تسلیم کرتا، تو نہ کبھی انصاف کا کوئی نظام بنتا، نہ محبت کا کوئی رشتہ قائم ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ عقلِ سلیم کبھی بھی صرف بصارت کو حقیقت کا واحد پیمانہ نہیں مانتی۔


پانچویں دلیل: ریاضی اور منطق کی غیر مرئی دنیا


سائنس اور ریاضی کی پوری عمارت ایسے تصورات پر کھڑی ہے جنہیں کبھی کسی نے نہیں دیکھا۔ "لامحدودیت" (infinity) کیا ہے؟ کیا کسی نے اسے چھوا ہے؟ "صفر" کیا ہے؟ کیا یہ کوئی مادی چیز ہے؟ نہیں، یہ سب تجریدی (abstract) تصورات ہیں، مگر انہی پر پوری جدید سائنس، انجینئرنگ، اور ٹیکنالوجی کھڑی ہے۔ کوئی سائنس دان یہ نہیں کہتا کہ چونکہ صفر کو دیکھا نہیں جا سکتا، اس لیے وہ موجود نہیں۔ بلکہ اسے اس کے اثرات اور اس کی منطقی ضرورت کی بنیاد پر قبول کیا جاتا ہے۔ غیب پر ایمان بھی اسی اصول پر کھڑا ہے — ایک ایسی حقیقت کو تسلیم کرنا جس کی ضرورت عقل خود محسوس کرتی ہے، چاہے وہ آنکھ کے سامنے نہ ہو۔


چھٹی دلیل: غیب پر ایمان انسان کو کیا دیتا ہے؟


اب سوال یہ ہے کہ آخر غیب پر ایمان کی ضرورت کیا ہے؟ اس کا جواب انسان کی اپنی فطرت میں چھپا ہے۔ اگر انسان صرف انہی چیزوں پر یقین رکھے جو اس کی آنکھ کے سامنے ہوں، تو اس کی پوری اخلاقیات صرف اسی وقت تک محدود رہ جائے گی جب تک کوئی اسے دیکھ رہا ہو۔ مگر غیب پر ایمان — یعنی یہ یقین کہ ایک ایسی ذات ہر وقت دیکھ رہی ہے جسے میں نہیں دیکھ سکتا، اور ایک ایسا دن آنے والا ہے جس کا حساب لازمی ہے — یہی وہ چیز ہے جو انسان کو تنہائی میں بھی ایماندار رکھتی ہے، جہاں کوئی کیمرہ نہیں، کوئی گواہ نہیں۔ قرآن اسی نکتے کو یوں بیان کرتا ہے:


اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ


"بےشک جو لوگ اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں، ان کے لیے بخشش اور بڑا اجر ہے۔"


(سورۃ الملک، آیت ۱۲)


یہاں "بن دیکھے ڈرنا" ہی وہ کیفیت ہے جو انسان کے کردار کو اس وقت بھی سیدھا رکھتی ہے جب دنیا کی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ رہی ہوتی۔ یہی غیب پر ایمان کا سب سے بڑا عملی فائدہ ہے۔


ساتویں دلیل: علم کی حدیں اور غیب کی وسعت


انسانی علم مسلسل بڑھ رہا ہے۔ سو سال پہلے جو چیزیں "ناممکن" اور "غیر مرئی" سمجھی جاتی تھیں — جراثیم، تابکاری، برقی لہریں — آج وہ روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ "غیر مرئی" ہونا کبھی بھی "غیر موجود" ہونے کی دلیل نہیں رہا، بلکہ یہ صرف انسانی علم کی محدودیت کی نشانی رہا ہے۔ جو چیز آج غیب ہے، ممکن ہے کل انسانی علم کی ترقی سے اس کے کچھ پہلو مزید واضح ہو جائیں، مگر خود اللہ کی ذات، جو ہر علم اور ہر ترقی سے ماورا ہے، ہمیشہ غیب ہی رہے گی — اور یہی اس کی عظمت کی دلیل ہے، کمی کی نہیں۔


خاتمہ: عقل کی معراج غیب پر ایمان میں ہے


تو حقیقت یہ ہے کہ غیب پر ایمان کوئی عقل کے خلاف قدم نہیں، بلکہ خود عقل کا وہ کمال ہے جسے انسان روز اپنی زندگی میں استعمال کرتا ہے — ماضی پر یقین میں، دوسروں کے احساسات پر یقین میں، مستقبل کی منصوبہ بندی میں، اور ریاضی کے تجریدی تصورات میں۔ جس انسان نے یہ سب کچھ بغیر دیکھے قبول کر لیا، اسے صرف دین کے معاملے میں اچانک "دیکھے بغیر یقین نہیں" کا اصول اپنانا، دراصل انصاف نہیں بلکہ تضاد ہے۔

قرآن نے غیب پر ایمان کو ہدایت پانے والوں کی سب سے پہلی نشانی قرار دیا، کیونکہ یہی وہ صلاحیت ہے جو انسان کو حیوانات سے ممتاز کرتی ہے — حواس کی چار دیواری سے نکل کر عقل کی وسعت میں داخل ہونے کی صلاحیت۔