ایک آدمی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھتا ہے، صحرا کے سفر پر نکلتا ہے، کسی عبادت خانے میں گھنٹوں بیٹھا رہتا ہے، بس اس امید پر کہ شاید کہیں دور، کسی خاص جگہ پر، اسے خدا مل جائے۔ وہ تھک جاتا ہے، مایوس ہو جاتا ہے، اور کبھی کبھی یہ سوچ کر واپس لوٹ آتا ہے کہ شاید خدا کہیں ہے ہی نہیں، ورنہ اتنی تلاش کے بعد کچھ تو ملتا۔ مگر اصل مسئلہ یہ نہیں کہ خدا نہیں ملا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسے ڈھونڈنے کی جگہ ہی غلط چنی گئی۔


فرض کیجیے کوئی شخص مچھلی کو خشکی پر ڈھونڈے، یا ہوا کو اپنی مٹھی میں بند کر کے دکھانے کی ضد کرے۔ وہ ناکام ہوگا، مگر اس ناکامی کی وجہ یہ نہیں کہ مچھلی یا ہوا موجود نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اسے غلط طریقے سے تلاش کیا گیا۔ بالکل اسی طرح، خدا کو تلاش کرنے کا صحیح راستہ کوئی دور کا سفر نہیں، بلکہ وہی جگہ ہے جہاں ہم پہلے سے کھڑے ہیں اپنے ارد گرد، اپنے اندر، اور اپنی روزمرہ زندگی کی ہر چھوٹی بڑی چیز میں۔


آئیے اس سفر کو شروع کرتے ہیں، اور دیکھتے ہیں کہ کائنات کا ذرہ ذرہ کس طرح ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔


پہلی نشانی: ایک خلیہ، ایک پوری دنیا


آپ کے جسم میں تقریباً 37 کھرب خلیے ہیں۔ ہر ایک خلیہ اتنا چھوٹا ہے کہ ننگی آنکھ اسے دیکھ ہی نہیں سکتی، مگر اس چھوٹے سے خلیے کے اندر ایک پوری فیکٹری کام کر رہی ہے۔ اس میں توانائی بنانے کا نظام ہے، فضلہ نکالنے کا نظام ہے، پیغام رسانی کا نظام ہے، اور سب سے حیران کن بات یہ کہ اس کے اندر موجود DNA میں آپ کے پورے جسم کی مکمل تفصیل، ایک نقشے کی طرح، لکھی ہوئی ہے۔ اگر ایک انسان کے DNA کو کھول کر لمبائی میں رکھا جائے، تو وہ اتنا لمبا ہوگا کہ زمین سے سورج تک کئی چکر لگا سکے۔


اب ذرا سوچیے: کیا یہ سب کچھ خود بخود، بغیر کسی منصوبے کے، ترتیب پا سکتا ہے؟ ایک عام کارخانے میں بھی، جہاں چند مشینیں کام کرتی ہیں، ایک انجینئر اور ایک نقشہ ضرور ہوتا ہے۔ پھر یہ اتنا پیچیدہ نظام، جو ہر سیکنڈ آپ کے جسم میں لاکھوں کام بیک وقت انجام دے رہا ہے، کیا یہ خود ہی بن گیا؟ قرآن اسی حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے:


وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ


"اور خود تمہارے اپنے وجود میں بھی (نشانیاں ہیں)، کیا تم دیکھتے نہیں؟"


(سورۃ الذاریات، آیت ۲۱)


خدا کو تلاش کرنے کی پہلی جگہ کوئی دور کا صحرا نہیں، بلکہ آپ کا اپنا جسم ہے — وہ جسم جسے آپ ہر روز استعمال کرتے ہیں، مگر شاید کبھی اس کی حیرت انگیز ساخت پر غور نہیں کرتے۔


دوسری نشانی: چیونٹی کا نظم


باغ میں ایک چیونٹیوں کی قطار دیکھیے۔ ہزاروں چیونٹیاں، بغیر کسی رہنما کے نظر آنے کے، ایک مکمل نظم کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ کچھ خوراک ڈھونڈتی ہیں، کچھ اسے گھر تک پہنچاتی ہیں، کچھ بستی کی حفاظت کرتی ہیں، اور کچھ نئے بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ ہر چیونٹی اپنا کام جانتی ہے، بغیر کسی اسکول کے، بغیر کسی تربیت کے۔ سائنس دان آج بھی حیران ہیں کہ اتنے چھوٹے سے دماغ کے ساتھ یہ مخلوق اتنا منظم نظام کیسے چلاتی ہے۔ قرآن میں ایک پوری سورت کا نام ہی "النمل" یعنی "چیونٹی" ہے، جس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا ایک چیونٹی کی بات سننے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ یہ محض ایک کہانی نہیں بلکہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی مخلوق میں بھی ایک شعور، ایک نظم، ایک حکمت رکھی گئی ہے۔ کیا یہ نظم خود بخود آ گیا، یا کسی نے اسے سکھایا؟


تیسری نشانی: شہد کی مکھی کا علم


شہد کی مکھی جب اپنا چھتہ بناتی ہے، تو وہ چھ کونوں والے خانے (hexagon) بناتی ہے۔ ریاضی دانوں نے ثابت کیا ہے کہ چھ کونوں والی شکل ہی وہ واحد شکل ہے جس سے کم سے کم مواد استعمال کر کے زیادہ سے زیادہ جگہ اور مضبوطی حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ ایک ایسا ریاضیاتی حساب ہے جسے سمجھنے کے لیے انسان کو برسوں کی تعلیم درکار ہوتی ہے، مگر ایک چھوٹی سی مکھی، بغیر کسی کتاب کے، بغیر کسی استاد کے، یہ حساب فطری طور پر جانتی ہے۔ قرآن نے اسی مکھی کے بارے میں فرمایا:


وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَ


"اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ پہاڑوں میں، درختوں میں اور اونچی چھتریوں میں اپنے گھر بنا۔"


(سورۃ النحل، آیت ۶۸)


یہاں لفظ "وحی" استعمال ہوا ہے، یعنی ایک ایسی رہنمائی جو خود مکھی کے اپنے علم سے نہیں بلکہ باہر سے اس کے اندر ڈالی گئی۔ یہی وہ نکتہ ہے جو خدا کے وجود کی طرف صاف اشارہ کرتا ہے کوئی تو ہے جس نے اس مکھی کو یہ علم عطا کیا۔


چوتھی نشانی: کائنات کی وہ ترتیب جس پر زندگی کھڑی ہے


اب ذرا آسمان کی طرف دیکھیے۔ زمین سورج سے ایک ایسے فاصلے پر ہے کہ نہ زیادہ گرمی ہے، نہ زیادہ سردی — بالکل اتنا فاصلہ جتنا زندگی کے لیے درکار ہے۔ اگر یہ فاصلہ تھوڑا سا بھی کم یا زیادہ ہوتا، تو زمین پر پانی یا تو جم جاتا یا بھاپ بن کر اڑ جاتا، اور زندگی کا کوئی امکان ہی نہ ہوتا۔ اسی طرح، اگر کشش ثقل کی طاقت ذرا سی بھی مختلف ہوتی، تو ستارے بن ہی نہ پاتے، اور اگر ایٹم کے اندر کی قوتیں ذرا سی مختلف ہوتیں، تو کوئی بھی عنصر — پانی، ہوا، مٹی — وجود میں ہی نہ آتا۔ سائنس دان اسے "فائن ٹیوننگ" کہتے ہیں، یعنی کائنات کے قوانین اتنی باریکی سے طے کیے گئے ہیں کہ ان میں ذرہ برابر فرق بھی پوری زندگی کو ناممکن بنا دیتا۔ کیا اتنی باریک ترتیب اتفاق سے بن سکتی ہے، یا اس کے پیچھے کوئی حکمت، کوئی منصوبہ ساز کارفرما ہے؟ قرآن اسی سوال کا جواب دیتا ہے:


اَلَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ


"جس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے، تم رحمن کی تخلیق میں کوئی بے ربطی نہیں دیکھو گے، پھر دوبارہ نظر ڈالو، کیا تمہیں کوئی شگاف نظر آتا ہے؟"


(سورۃ الملک، آیات ۳-۴)


پانچویں نشانی: بارش کا سفر


بارش کا ایک قطرہ سوچیے۔ یہ سمندر سے بھاپ بن کر اٹھتا ہے، بادل بن کر ہوا کے ساتھ سینکڑوں میل کا سفر کرتا ہے، پھر ٹھیک اس وقت زمین پر گرتا ہے جب کھیت کو اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ پانی، جو کبھی نمکین سمندر کا حصہ تھا، زمین پر گرتے گرتے میٹھا اور صاف ہو جاتا ہے۔ یہ پورا نظام — بھاپ بننا، بادل بننا، ہوا کے ذریعے سفر کرنا، برسنا، زمین میں جذب ہونا، دوبارہ سمندر میں واپس جانا — ایک ایسا چکر ہے جو اربوں سال سے بلا تعطل چل رہا ہے، بغیر کسی مشین کے، بغیر کسی انسانی مداخلت کے۔ قرآن کہتا ہے:


وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ ۖۗ


"اور ہم نے آسمان سے ایک مقررہ اندازے کے ساتھ پانی اتارا، پھر اسے زمین میں ٹھہرا دیا۔"


(سورۃ المؤمنون، آیت ۱۸)


لفظ "بِقَدَرٍ" یعنی "ایک مقررہ اندازے کے ساتھ" — یہ بتاتا ہے کہ یہ سب کچھ اتفاق نہیں بلکہ ایک حساب کے ساتھ طے شدہ ہے۔


چھٹی نشانی: پرندے کی پرواز


آسمان میں اڑتا ہوا پرندہ دیکھیے۔ اس کی ہڈیاں کھوکھلی ہیں تاکہ وزن کم ہو، اس کے پر ایک خاص زاویے پر بنے ہیں تاکہ ہوا کا دباؤ اسے اوپر اٹھائے، اور اس کا پورا جسم ایک ایسے نظام کے مطابق بنایا گیا ہے جو انجینئرنگ کے پیچیدہ ترین اصولوں پر پورا اترتا ہے۔ قرآن اسی منظر کی طرف اشارہ کرتا ہے:


اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ ۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ


"کیا انہوں نے اپنے اوپر اڑتے ہوئے پرندوں کو نہیں دیکھا، جو پر پھیلاتے اور سکیڑتے ہیں، انہیں رحمن کے سوا کوئی تھامے نہیں رکھتا، بےشک وہ ہر چیز کو خوب دیکھنے والا ہے۔"


(سورۃ الملک، آیت ۱۹)


ساتویں نشانی: اپنے اندر کا سوال


اب آخری اور سب سے قریبی جگہ کی طرف چلتے ہیں — آپ کا اپنا دل۔ کیا کبھی کسی مشکل وقت میں، جب تمام سہارے ختم ہو گئے ہوں، آپ کے دل نے خود بخود کسی بلند تر ہستی کو پکارا؟ یہ کوئی سکھائی ہوئی بات نہیں، بلکہ ایک فطری کھنچاؤ ہے جو ہر انسان کے اندر موجود ہے، چاہے وہ کسی بھی زمانے یا کسی بھی خطے میں پیدا ہوا ہو۔ یہی وہ فطرت ہے جسے قرآن نے "فطرت اللہ" کہا:


فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًاؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَاؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِؕ


"سو اپنا رخ دین کی طرف سیدھا رکھو، اللہ کی وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا، اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں۔"


(سورۃ الروم، آیت ۳۰)


یعنی خدا کو تلاش کرنے کی سب سے قریبی جگہ کوئی باہر کی دنیا نہیں، بلکہ خود آپ کا اپنا دل ہے، جو ہر مشکل وقت میں اسی ایک حقیقت کو پکارتا ہے۔


تو خدا کو کہاں تلاش کریں؟


اب جواب واضح ہے۔ خدا کو تلاش کرنے کے لیے کسی صحرا، کسی پہاڑ، یا کسی خاص دن کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ اسے اپنے جسم کے ایک خلیے میں دیکھیے، چیونٹی کے نظم میں دیکھیے، شہد کی مکھی کے علم میں دیکھیے، آسمان کی باریک ترتیب میں دیکھیے، بارش کے سفر میں دیکھیے، پرندے کی پرواز میں دیکھیے، اور آخر میں اپنے اپنے دل کی اس فطری پکار میں دیکھیے جو ہر مشکل وقت میں خود بخود ابھرتی ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ ایک ہی زبان میں بول رہا ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس زبان کو سننے کے لیے تھوڑی دیر رک جائیں۔ قرآن اسی دعوت کو یوں سمیٹتا ہے:


سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ ؕ اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ


"عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں دنیا کے کناروں میں اور خود ان کے اپنے وجود میں دکھائیں گے، یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے کہ یہ حق ہے، کیا تمہارے رب کا ہر چیز پر گواہ ہونا کافی نہیں؟"


(سورۃ حم السجدہ، آیت ۵۳)


یہی وہ سفر ہے جو ہر انسان کو کرنا ہے — نہ دور، نہ مشکل، بس اپنی آنکھیں کھولنے اور اپنے دل کو سننے کا سفر۔ جو شخص یہ سفر ایمانداری سے شروع کرتا ہے، وہ دیکھتا ہے کہ خدا کہیں چھپا ہوا نہیں تھا، بلکہ ہر طرف، ہر لمحے، ہر ذرے میں موجود تھا، بس اسے دیکھنے والی نظر چاہیے تھی۔