ناک اور کان چھدوانا جائز ہے؟


بچی کی پیدائش کے کچھ عرصے بعد کان چھدوانا ہمارے معاشرے کی پرانی روایت ہے، اور برصغیر میں ناک کی لونگ اور نتھ خواتین کے زیور کا اہم حصہ رہی ہے۔ دوسری طرف آج Ear Piercing اور Nose Piercing کے ساتھ ساتھ جسم کے دوسرے حصوں میں بھی سوراخ کروانے کا فیشن چل نکلا ہے۔ اس لیے یہ سوال اہم ہے: کیا ناک اور کان چھدوانا جائز ہے؟ اور کیا یہ ’’اللہ کی تخلیق میں تبدیلی‘‘ تو نہیں؟


ہر تبدیلی ممنوع نہیں


پہلے یہ اصول سمجھ لیجیے۔ مالکی فقیہ علامہ قرافیؒ نے لکھا ہے کہ خوب صورتی کے لیے تبدیلی شریعت میں ناپسندیدہ نہیں، جیسے ختنہ، ناخن اور بال تراشنا اور مہندی لگانا (الذخیرہ، ج 13، ص 315)۔ یعنی ہر جسمانی تبدیلی ممنوع نہیں؛ ممانعت اس تبدیلی کی ہے جس میں دھوکا ہو، بے حیائی ہو، یا کسی برے طبقے کی مشابہت ہو۔


کان چھدوانا: عورتوں اور بچیوں کے لیے جائز


عورتوں اور بچیوں کے لیے کان چھدوانا جائز ہے، اور اس کی دلیل رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ کے زمانے کا عمل ہے:




  • عید کے دن کا واقعہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے عید کے دن خواتین کو صدقے کی ترغیب دی تو وہ اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں صدقے میں دینے لگیں (صحیح البخاری، کتاب العلم، حدیث: 98)۔ صحابیات کانوں میں بالیاں پہنتی تھیں اور آپ نے اس پر کوئی اعتراض نہیں فرمایا۔
  • ام زرع کی حدیث: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بیان کردہ مشہور حدیث میں ایک خاتون اپنے شوہر کی تعریف کرتی ہے کہ اس نے میرے کانوں کو زیور سے بھر دیا۔ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے یہ سن کر حضرت عائشہؓ سے فرمایا: میں تمہارے لیے ویسا ہی ہوں جیسا ابو زرع ام زرع کے لیے تھا (صحیح البخاری، حدیث: 5189؛ صحیح مسلم، حدیث: 2448)۔

اسی بنا پر جمہور فقہا نے بچیوں کے کان چھدوانا جائز قرار دیا ہے۔ بچی کو ہونے والی معمولی تکلیف ایک جائز زینت کے لیے ہے، اس لیے اس میں حرج نہیں۔


ناک چھدوانا: خواتین کے لیے جائز


جن علاقوں میں ناک کی لونگ یا نتھ عورتوں کا عام زیور ہے، جیسے پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کئی عرب علاقوں میں، وہاں فقہائے احناف اور بہت سے معاصر علما نے عورتوں کے لیے ناک چھدوانا جائز قرار دیا ہے، کیونکہ یہ عورتوں کی معروف اور جائز زینت ہے، اور اس میں کوئی دھوکا یا بے حیائی نہیں۔


مردوں کے لیے ناک یا کان چھدوانا: جائز نہیں


مردوں کے لیے کان یا ناک چھدوا کر زیور پہننا جائز نہیں، کیونکہ یہ عورتوں سے مشابہت ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:




لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ (صحیح البخاری، کتاب اللباس، حدیث: 5885)
رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔

جسم کے دوسرے حصوں میں Piercing


زبان، ناف، ابرو یا ہونٹ جیسے حصوں میں سوراخ کروانا (Body Piercing) مسلم معاشروں میں عورتوں کی معروف زینت نہیں رہا۔ اکثر علما اسے منع کرتے ہیں، کیونکہ:




  1. اس میں صحت کے لیے انفیکشن اور نقصان کا خطرہ ہے، اور رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ‘‘ (سنن ابن ماجہ، حدیث: 2340)۔
  2. یہ بعض بے راہ رو طبقوں کی علامت سمجھی جاتی ہے، اور ایسی مشابہت سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔

غسل میں کانوں اور ناک کے سوراخ


یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس سے بہت سی خواتین ناواقف ہیں۔ فقہ حنفی کے مطابق اگر کان یا ناک کا سوراخ کھلا ہو تو غسل میں اس کے اندر پانی پہنچانا ضروری ہے، اور اگر سوراخ بند ہو چکا ہو تو ضروری نہیں۔ غسل کے وقت بالی کو ہلا کر یا انگلی سے سوراخ تک پانی پہنچا دیجیے۔


چند عملی مشورے




  • چھدوانے کا کام کسی تربیت یافتہ اور صفائی کا خیال رکھنے والے شخص سے کروائیے، تاکہ انفیکشن نہ ہو۔
  • بچیوں کے کان چھدوانے میں ان کی صحت اور تکلیف کا خیال رکھیے۔
  • زیور ایسا ہو جو صحت کے لیے محفوظ ہو۔

آخری بات

عورتوں اور بچیوں کے لیے کان چھدوانا، اور جہاں رواج ہو وہاں ناک چھدوانا، جائز زینت ہے، جس کی تائید رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ کے زمانے کے عمل سے ہوتی ہے۔ البتہ مردوں کے لیے یہ عورتوں سے مشابہت کی وجہ سے جائز نہیں، اور جسم کے دوسرے حصوں کی Piercing سے بچنا چاہیے۔ زینت اختیار کیجیے، مگر صحت، حیا اور سنت کے دائرے میں۔