قرآن کا خدا کیسا ہے؟


ذرا تصور کیجیے کہ آپ ایک اندھیرے کمرے میں بیٹھے ہیں، اور باہر سے کوئی آواز دستک دے رہی ہے: "کیا تم نے کبھی سوچا کہ تم کہاں سے آئے؟" آپ اٹھتے ہیں، دروازہ کھولتے ہیں، اور سامنے ایک لمبا راستہ نظر آتا ہے — جس پر صدیوں سے انسان چل رہا ہے، ایک ہی سوال کا جواب ڈھونڈتے ہوئے: خدا کون ہے، اور وہ کیسا ہے؟ کسی نے اس راستے میں پتھر کی مورتیں تراشیں اور کہا یہی خدا ہے۔ کسی فلسفی نے ایک خاموش، بے حس تصور گھڑا جو کائنات بنا کر خود کہیں دور جا بیٹھا۔ اور جب سائنس نے ستاروں اور ذروں کے راز کھولنے شروع کیے، تو ایک نئی آواز ابھری جس نے کہا: اب خدا کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ مگر اسی راستے میں ایک اور آواز بھی گونجتی ہے — واضح، پرسکون، اور ہر سوال کا سامنا کرنے کو تیار۔ یہ قرآن کی آواز ہے۔ اور وہ جس خدا کا تعارف کراتی ہے، وہ نہ کسی فلسفی کا مجرد خیال ہے، نہ کوئی خاموش تماشائی — بلکہ ایک زندہ، جاننے والی، سننے والی اور دیکھنے والی ہستی ہے۔


سوال یہی ہے: قرآن کا خدا کیسا ہے؟ اور کیا اس کا تصور عقل، فطرت اور جدید علم کے ساتھ ہم آہنگ ہے، یا محض ایک روایتی عقیدہ ہے جسے مان لینا ہی کافی سمجھا جاتا ہے؟


پہلا زاویہ: عقلِ محض کا خدا بمقابلہ قرآن کا خدا


یونانی فلسفیوں نے جس خدا کا تصور دیا، وہ ایک "پہلا محرک" (Prime Mover) تھا — ایک ایسی ذات جس نے کائنات کو حرکت میں لا کر خود کنارہ کر لیا، جیسے کوئی گھڑی ساز گھڑی بنا کر بھول جائے۔ یہ خدا نہ سنتا ہے، نہ بولتا ہے، نہ انسان کی فریاد سے واقف ہے۔ اس کے برعکس، قرآن نے جس ذات کو متعارف کرایا وہ ہر لمحہ زندہ اور فعال ہے:


اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ


"اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ ہے، ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے۔"


(سورۃ البقرہ، آیت ۲۵۵)


یہاں فرق واضح ہو جاتا ہے: فلسفے کا خدا ایک نظریاتی ضرورت ہے، جبکہ قرآن کا خدا ایک زندہ حقیقت ہے جو ہر ذرے کو تھامے ہوئے ہے، جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے الحاد کا سب سے بڑا اعتراض — "اگر خدا ہے تو وہ خاموش کیوں ہے؟" — اپنی بنیاد کھو دیتا ہے، کیونکہ قرآن کا خدا خاموش تماشائی نہیں بلکہ ہر پکار سننے والا ہے: "وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ ۫اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ" — "اور جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو (کہہ دو) میں قریب ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارے۔"


دوسرا زاویہ: مادہ پرستی کا خلا اور قرآن کا جواب


جدید ملحد کہتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز کی توجیہ مادے اور توانائی کے قوانین سے ہو سکتی ہے، خدا کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ مگر یہاں ایک بنیادی سوال رہ جاتا ہے جسے مادہ پرستی کبھی حل نہیں کر پاتی: قوانین خود کہاں سے آئے؟ کشش ثقل کا قانون، حرارت حرکیات کے اصول، اور کائنات کی وہ باریک ترتیب جس کے بغیر ایک ستارہ بھی نہ بن سکتا — یہ سب کس نے طے کیے؟ سائنس یہ بتاتی ہے کہ چیزیں کیسے کام کرتی ہیں، مگر یہ نہیں بتا سکتی کہ وہ کیوں اسی ترتیب سے کام کرتی ہیں، اور کیوں کچھ ہونے کے بجائے کچھ نہ ہونا ممکن نہ تھا۔ قرآن اسی خلا کو پُر کرتے ہوئے کہتا ہے:


اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ ۝ اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ ۚ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَ


"کیا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا ہو گئے، یا وہ خود اپنے خالق ہیں؟ یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا؟ بلکہ وہ یقین ہی نہیں رکھتے۔"


(سورۃ الطور، آیات ۳۵-۳۶)


یہ محض ایک روایتی جواب نہیں بلکہ ایک منطقی چیلنج ہے جو آج بھی اپنی جگہ پر مضبوط کھڑا ہے: عدم سے وجود پیدا نہیں ہو سکتا، اور کائنات خود اپنا خالق نہیں ہو سکتی۔ کوئی نہ کوئی ابتدائی سبب لازم ہے جو خود کسی سبب کا محتاج نہ ہو — اور یہی وہ ذات ہے جسے قرآن "اللہ" کہتا ہے۔


تیسرا زاویہ: شعور، اخلاق اور خدا کی معرفت


سب سے دلچسپ سوال یہ ہے کہ انسان کے اندر یہ اخلاقی شعور کہاں سے آیا کہ ظلم برا ہے اور انصاف اچھا؟ اگر انسان محض کیمیائی تعاملات کا نتیجہ ہے، تو اخلاق بھی محض ایک ارتقائی حادثہ ہونا چاہیے، جس کی کوئی حتمی حیثیت نہیں۔ مگر ہر انسان، ہر تہذیب میں، ایک اندرونی آواز محسوس کرتا ہے جو انصاف کی طرف بلاتی ہے۔ قرآن اس فطری آواز کو "فطرت اللہ" کہتا ہے:


فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًاؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَاؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِؕ


"سو اپنا رخ دین کی طرف سیدھا رکھو، اللہ کی وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا، اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں۔"


(سورۃ الروم، آیت ۳۰)


یعنی خدا کا تصور کوئی بیرونی زبردستی نہیں بلکہ انسانی فطرت کا وہ اندرونی پکار ہے جسے جتنا دبایا جائے، وہ کسی نہ کسی صورت میں سر اٹھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے ہر دور میں، ہر تہذیب میں، کسی نہ کسی صورت خدا کا تصور موجود رہا ہے — الحاد ہمیشہ ایک استثناء رہا ہے، معمول نہیں۔


چوتھا زاویہ: رحمت اور عدل کا امتزاج


مگر قرآن کا خدا صرف ایک "پہلا سبب" یا فلسفیانہ ضرورت نہیں، بلکہ وہ ذات ہے جس کی صفات کا مرکز رحمت ہے۔ ہر سورت کی ابتدا میں "بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے۔ یہاں پھر وہی امتزاج نظر آتا ہے جو ہم پہلے دیکھ چکے ہیں: عقیدے میں چٹان جیسی سختی (توحید میں کوئی سمجھوتہ نہیں)، مگر صفات میں رحمت کی بے کراں وسعت۔ نہ وہ خدا جو صرف عذاب کی دھمکی دے، اور نہ وہ خدا جو انصاف سے عاری ہو، بلکہ وہ ذات جس نے خود اپنے اوپر رحمت لازم کر لی: "كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ" — "تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت لازم کر لی ہے۔"


خاتمہ: انتخاب کس کا؟


آج انسان کے سامنے دو راستے ہیں: ایک وہ خدا جسے فلسفے نے مجرد کر دیا، یا جسے سائنس کے نام پر مکمل رد کر دیا گیا، اور دوسرا وہ خدا جسے قرآن نے متعارف کرایا — زندہ، قریب، سننے والا، دیکھنے والا، عادل اور رحیم۔ عقل اس سوال سے فرار حاصل نہیں کر سکتی کہ کائنات کی ابتدا، شعور کی حقیقت، اور اخلاق کی بنیاد آخر کہاں سے آئی۔ اور جتنا گہرائی سے یہ سوالات پوچھے جائیں، اتنا ہی واضح ہوتا جاتا ہے کہ قرآن کا خدا کسی خیالی تصور کا نام نہیں بلکہ اس حقیقت کا نام ہے جس کے بغیر خود عقل، شعور اور اخلاق بھی بے معنی ہو جاتے ہیں۔


قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ ۝ اَللّٰهُ الصَّمَدُ ۝ لَمْ یَلِدْ ۬ۙ وَ لَمْ یُوْلَدْ ۝ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ


"کہہ دو: وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس نے کسی کو جنا، نہ وہ کسی سے جنا گیا۔ اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔"


(سورۃ الاخلاص)


یہی وہ خدا ہے جسے قرآن نے متعارف کرایا — نہ فلسفے کا مجرد تصور، نہ مادہ پرستی کا خلا، بلکہ ایک زندہ، قریب اور رحیم حقیقت، جس کی معرفت ہی دراصل عقل کی معراج اور انسانیت کی تکمیل ہے۔


اگر آپ خدا کی معرفت کو محض معلومات کی حد تک نہیں بلکہ اپنے دل و دماغ کا یقین بنانا چاہتے ہیں، تو Sirat Islamic Academy کے عقائد اور قرآن فہمی کے مستند آن لائن کورسز میں آج ہی شامل ہوں۔