پاکستان میں سود کا خاتمہ: شرعی عدالت کا فیصلہ اور 2028


پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے جنہوں نے آئینی اور عدالتی سطح پر سود کے مکمل خاتمے کا عہد کیا ہے۔ یہ سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے، اور اب اپنی منزل کے قریب پہنچ رہا ہے۔ اس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ عدالت نے کیا فیصلہ دیا، حکومت نے کیا وعدہ کیا، اب تک کیا ہوا، اور 2028 کے بعد عام پاکستانی کی زندگی میں کیا تبدیلی آ سکتی ہے۔


تاریخی پس منظر


سود کے خلاف مقدمہ تین دہائیوں سے زیادہ پرانا ہے:




  • 1991: وفاقی شرعی عدالت نے بینکوں کے سود کو غیر اسلامی قرار دیا۔
  • 1999: سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بینچ نے، جس کے رکن مفتی محمد تقی عثمانی بھی تھے، اس فیصلے کی توثیق کی۔
  • 2002: نظرِ ثانی کی درخواست پر سابقہ فیصلے کالعدم ہوئے اور مقدمہ دوبارہ وفاقی شرعی عدالت کو بھیج دیا گیا۔
  • 2002 سے 2022: تقریباً بیس سال تک مقدمہ زیرِ التوا رہا۔

وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ: 28 اپریل 2022


وفاقی شرعی عدالت نے حکومت کو 31 دسمبر 2027 تک ملک سے سود کے خاتمے کا حکم دیا، اور قرار دیا کہ سود کی ہر شکل اور ہر صورت میں ممانعت اسلامی احکام اور قرآن کے مطابق ہے۔ فیصلے کے اہم نکات یہ ہیں: dawn




  1. سود کی ہر شکل حرام: قرض کسی بھی مقصد کے لیے ہو، ذاتی یا کاروباری، اس پر طے شدہ اضافہ سود ہے۔
  2. قوانین غیر اسلامی: عدالت نے 1839 کے انٹرسٹ ایکٹ کو غیر اسلامی قرار دیا، اور حکومت کو سود پر مبنی مالیاتی نظام کو پانچ سال میں اسلامی نظام سے بدلنے کی ہدایت کی۔ اسی طرح سود سے متعلق دیگر کئی قوانین بھی غیر اسلامی قرار پائے۔ dailypakistan
  3. اسلامی بینکاری ایک عملی متبادل: عدالت نے اسلامی بینکاری کو سودی نظام کے متبادل کے طور پر تسلیم کیا۔

فیصلے کا مکمل متن وفاقی شرعی عدالت کی ویب سائٹ پر موجود ہے:

https://www.federalshariatcourt.gov.pk/Judgments/S-P%2030-L1991%20Riba%20Case-28.04.2022.pdf


حکومت اور اسٹیٹ بینک کا ردِعمل


ابتدا میں فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر ہوئیں، جن میں اسٹیٹ بینک کی اپیل بھی شامل تھی۔ مگر بعد میں اسٹیٹ بینک نے سپریم کورٹ میں درخواست دے کر وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپنی اپیل واپس لے لی۔ حکومت نے بھی اپیل واپس لینے کا اعلان کیا، اور اسٹیٹ بینک نے سودی نظام کو اسلامی نظام میں تبدیل کرنے کے لیے ایک باقاعدہ حکمتِ عملی تیار کی۔ brecorder


26ویں آئینی ترمیم: یکم جنوری 2028


اکتوبر 2024 میں 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 38 (ف) میں یہ ہدف شامل کیا گیا کہ سود کا خاتمہ، جہاں تک عملاً ممکن ہو، یکم جنوری 2028 تک کر دیا جائے گا۔ یوں سود کے خاتمے کو پہلی بار ایک مقررہ آئینی تاریخ مل گئی۔

’’جہاں تک عملاً ممکن ہو‘‘ کے الفاظ اہم ہیں۔ ایک طرف یہ حقیقت پسندی کا اظہار ہیں، کیونکہ اتنے بڑے نظام کی تبدیلی آسان نہیں؛ دوسری طرف ناقدین کا خدشہ ہے کہ یہ الفاظ تاخیر کا راستہ بھی کھول سکتے ہیں۔


اب تک کی پیش رفت




  • اسلامی بینکاری کا بڑھتا حصہ: بینکاری کے کل اثاثوں میں اسلامی بینکاری کا حصہ دسمبر 2025 میں 22.9 فیصد تھا، جو جون 2026 تک بڑھ کر 23.7 فیصد ہو گیا۔ propakistani
  • حکومتی قرضوں میں صکوک: حکومت نے سودی بانڈز کی جگہ اسلامی صکوک (Sukuk)، یعنی حقیقی اثاثوں پر مبنی سرمایہ کاری سرٹیفکیٹس، جاری کرنے کا سلسلہ بڑھایا ہے۔
  • ڈیجیٹل اسلامی بینک: پہلا ڈیجیٹل اسلامی بینک لائسنس حاصل کر کے کام شروع کر چکا ہے۔
  • ادارہ جاتی تبدیلی: اسٹیٹ بینک نے روایتی بینکاری کو اسلامی بینکاری میں تبدیل کرنے کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی ہے۔

راستے کی بڑی رکاوٹیں


1۔ حکومت کا اندرونی قرض: حکومت کا بہت بڑا اندرونی قرض سودی بانڈز اور ٹریژری بلز (Treasury Bills)، یعنی قلیل مدتی سرکاری قرض کے سرٹیفکیٹس، پر مبنی ہے۔ انہیں صکوک میں تبدیل کرنے کے لیے کافی سرکاری اثاثے درکار ہیں۔

2۔ بیرونی قرضے: آئی ایم ایف اور عالمی اداروں سے لیے گئے قرضے سود پر مبنی ہیں، اور ان کی تبدیلی ملکی فیصلے سے ممکن نہیں۔

3۔ ماہرین کی کمی: فقہ اور مالیات، دونوں کے ماہرین کی تعداد ابھی ضرورت سے کم ہے۔

4۔ عوامی اعتماد: بہت سے لوگ اب بھی سمجھتے ہیں کہ اسلامی بینکاری ’’صرف نام کی تبدیلی‘‘ ہے۔ اس اعتماد کی بحالی کے لیے شفافیت اور حقیقی شراکت والے طریقوں کا فروغ ضروری ہے۔


عام آدمی پر کیا اثر پڑے گا؟


اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو:




  • بچت: آپ کے سیونگ اکاؤنٹ کا منافع سود کے بجائے حقیقی کاروبار کے نفع میں شراکت کی بنیاد پر ہوگا۔
  • فنانسنگ: گاڑی، گھر اور کاروبار کے لیے قرض کے بجائے اجارہ، مرابحہ اور مشارکہ جیسے طریقے ہوں گے۔
  • ضمیر کا اطمینان: سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ایک عام مسلمان کو بینک سے تعلق رکھتے ہوئے ’’اللہ اور اس کے رسول سے جنگ‘‘ کا خوف نہیں رہے گا۔

ایک متوازن نقطۂ نظر


سود کا خاتمہ ایک دن کا کام نہیں؛ یہ ایک تدریجی عمل ہے۔ قرآن نے بھی سود کی حرمت کا اعلان مرحلہ وار کیا: پہلے اس کی ناپسندیدگی (الروم: 39)، پھر بڑھتے چڑھتے سود کی ممانعت (آل عمران: 130)، اور آخر میں مکمل حرمت اور جنگ کا اعلان (البقرة: 278، 279)۔ پاکستان کا یہ سفر بھی اسی تدریج کا تقاضا کرتا ہے، بشرطیکہ تدریج ٹال مٹول نہ بن جائے۔


آخری بات


وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ اور 26ویں آئینی ترمیم پاکستان کی تاریخ کے اہم سنگِ میل ہیں۔ اب اصل امتحان عمل کا ہے: کیا 2028 تک پاکستان واقعی ایک سود سے پاک معیشت بن سکے گا؟ اس کا جواب صرف حکومت اور بینکوں پر نہیں، بلکہ عوام پر بھی ہے؛ ہر وہ شخص جو اپنا اکاؤنٹ اسلامی بینک میں منتقل کرتا ہے، اس منزل کو قریب کرتا ہے۔