تجوید کے قواعد: قرآن درست پڑھنے کا آسان طریقہ
تجوید وہ فن ہے جو قرآن کے ’’پڑھنے‘‘ کو اس انداز میں ’’تلاوت‘‘ بنا دیتا ہے جیسے وہ نازل ہوا۔ ہر مسلمان نے کبھی نہ کبھی ایسی تلاوت سنی ہے جس میں ہر حرف واضح ہو، ہر آواز کو اس کا حق ملا ہو، اور ہر آیت ایک توازن کے ساتھ رواں ہو۔ یہ حسن تجوید ہی کا ہے۔ اگر آپ عربی حروف پڑھ لیتے ہیں اور اب قرآن کو درست پڑھنا چاہتے ہیں، تو تجوید کے بنیادی قواعد آپ کا اگلا قدم ہیں۔ اس مضمون میں بتایا گیا ہے کہ تجوید کیا ہے، کیوں ضروری ہے، اور اس کے سب سے اہم بنیادی قواعد کیا ہیں، ہر ایک قرآن کی واضح مثال کے ساتھ۔
تجوید کیا ہے؟
’’تجوید‘‘ عربی کے ایک ایسے مادے سے ہے جس کا معنی ہے ’’بہتر بنانا‘‘ یا ’’عمدہ کرنا‘‘۔ تلاوت میں تجوید کا مطلب ہے ہر حرف کو اس کا حق دینا: اسے اس کے صحیح مخرج سے، اس کی صحیح صفات کے ساتھ ادا کرنا، اور ان قواعد پر عمل کرنا جو دوسرے حروف سے ملنے پر اس پر لاگو ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے حکم دیا: ’’وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا‘‘ (المزمل: 4)، اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر خوب صاف پڑھو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ’’ترتیل‘‘ کا مطلب ہے حروف کو عمدگی سے ادا کرنا اور وقف کے مقامات کو جاننا۔
تجوید کیوں ضروری ہے؟
علما تلاوت کی غلطیوں کی دو قسمیں بیان کرتے ہیں:
- لحنِ جلی (واضح غلطی): کسی حرف، حرکت یا لفظ کو بدل دینا، جس سے معنی بدل سکتا ہے۔ اس سے بچنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔
- لحنِ خفی (باریک غلطی): تجوید کے باریک قواعد میں معمولی کوتاہی، جیسے آواز کی لمبائی یا غنہ میں کمی۔ اسے عموماً تجوید جاننے والے ہی محسوس کرتے ہیں، اور اس کی اصلاح تلاوت کا کمال ہے۔
علمِ قراءت کے امام، علامہ ابن الجزریؒ نے تجوید پر اپنی مشہور نظم میں لکھا:
وَالْأَخْذُ بِالتَّجْوِيدِ حَتْمٌ لَازِمُ ... مَنْ لَمْ يُجَوِّدِ الْقُرْآنَ آثِمُ
تجوید کو اختیار کرنا قطعی لازم ہے؛ جس نے قرآن کو تجوید سے نہ پڑھا وہ گناہ گار ہے۔
اس کا اجر بھی بہت بڑا ہے۔ رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ قرآن میں مہارت رکھنے والا معزز اور نیک فرشتوں کے ساتھ ہوگا، اور جو اٹک اٹک کر مشقت سے پڑھے، اس کے لیے دوہرا اجر ہے (صحیح مسلم، حدیث: 798)۔
پہلا قاعدہ: مخارج
ہر عربی حرف کی آواز منہ یا حلق کی ایک خاص جگہ سے نکلتی ہے، جسے ’’مخرج‘‘ کہتے ہیں۔ مخارج کے پانچ بنیادی حصے ہیں:
- جوف (منہ اور حلق کا خلا): حروفِ مدہ کی آوازیں۔
- حلق: ء ہ حلق کے آخری حصے سے، ع ح درمیانی حصے سے، اور غ خ ابتدائی حصے سے۔
- زبان: اکثر حروف، جیسے ق ک ج ش ی ت د ط ل ن ر۔
- ہونٹ: ف ب م و۔
- خیشوم (ناک کا بانسہ): غنہ کی آواز۔
مخارج کی درستی تجوید کی بنیاد ہے، اور یہ کسی ماہر استاد کو سن کر اور دہرا کر ہی بہتر سیکھی جاتی ہے۔
دوسرا قاعدہ: نون ساکن اور تنوین
جب نون ساکن (نْ) یا تنوین (ـًـٍـٌ) کے بعد کوئی حرف آئے تو چار میں سے ایک قاعدہ لاگو ہوتا ہے:

ادغام میں حروف ی ن م و (جو لفظ ’’ینمو‘‘ میں جمع ہیں) غنہ کے ساتھ، اور ل اور ر بغیر غنہ کے ادغام ہوتے ہیں، جیسے ’’مِن رَّبِّهِمْ‘‘۔
تیسرا قاعدہ: میم ساکن
جب میم ساکن (مْ) کے بعد کوئی حرف آئے تو تین میں سے ایک قاعدہ لاگو ہوتا ہے:
- اخفائے شفوی: ب سے پہلے میم کو غنہ کے ساتھ چھپا کر پڑھنا، جیسے ’’تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ‘‘۔
- ادغامِ شفوی: دوسری م سے پہلے دونوں میم غنہ کے ساتھ ملا کر پڑھنا، جیسے ’’لَهُم مَّا‘‘۔
- اظہارِ شفوی: باقی تمام حروف سے پہلے میم کو صاف پڑھنا، جیسے ’’أَلَمْ تَرَ‘‘۔
چوتھا قاعدہ: غنہ
غنہ ناک سے نکلنے والی آواز ہے۔ جب نون یا میم پر تشدید ہو (نّ مّ) تو اسے تقریباً دو حرکت کی مقدار غنہ کے ساتھ پڑھا جاتا ہے، جیسے ’’إِنَّ‘‘ اور ’’ثُمَّ‘‘۔
پانچواں قاعدہ: قلقلہ
قلقلہ پانچ حروف میں ساکن ہونے کی حالت میں آواز کا ہلکا سا جھٹکا یا گونج ہے۔ یہ حروف ’’قُطْبُ جَدٍّ‘‘ میں جمع ہیں: ق ط ب ج د۔ آیت کے آخر میں وقف کرتے وقت یہ گونج زیادہ واضح ہوتی ہے، جیسے ’’أَحَدْ‘‘ اور ’’الْفَلَقْ‘‘۔
چھٹا قاعدہ: مد
مد کا مطلب ہے آواز کو کھینچنا۔ ابتدائی طلبہ کے لیے اس کی اہم قسمیں یہ ہیں:
- مدِ طبعی (اصلی): حرفِ مدہ کو دو حرکت کی مقدار کھینچنا، جیسے ’’قَالَ‘‘۔
- مدِ متصل: حرفِ مدہ کے بعد اسی لفظ میں ہمزہ ہو؛ اسے 4 سے 5 حرکت کھینچا جاتا ہے، جیسے ’’جَاءَ‘‘۔
- مدِ منفصل: حرفِ مدہ ایک لفظ کے آخر میں ہو اور ہمزہ اگلے لفظ کے شروع میں، جیسے ’’إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ‘‘۔
- مدِ لازم: حرفِ مدہ کے بعد لازمی سکون یا تشدید ہو؛ اسے 6 حرکت کھینچا جاتا ہے، جیسے ’’الضَّالِّينَ‘‘۔
ساتواں قاعدہ: پُر اور باریک حروف
کچھ حروف ہمیشہ پُر، یعنی منہ بھر کر، پڑھے جاتے ہیں۔ یہ ’’خُصَّ ضَغْطٍ قِظْ‘‘ میں جمع ہیں: خ ص ض غ ط ق ظ۔ باقی حروف باریک پڑھے جاتے ہیں۔ لفظ ’’اللہ‘‘ کا لام زبر یا پیش کے بعد پُر پڑھا جاتا ہے، جیسے ’’قَالَ اللَّهُ‘‘، اور زیر کے بعد باریک، جیسے ’’بِسْمِ اللَّهِ‘‘۔
تجوید درست طریقے سے کیسے سیکھیں؟
تجوید کے قواعد پڑھنا مفید ہے، مگر تجوید دراصل سن کر اور نقل کر کے سیکھی جاتی ہے۔ قرآن خود استاد سے شاگرد تک، کانوں کے ذریعے، رسولِ اکرم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ تک منتقل ہوتا آیا ہے۔ سیکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے:
- کسی ماہر استاد کو غور سے سنیے۔
- ان کے بعد دہرائیے اور اپنی اصلاح کروائیے۔
- روزانہ چھوٹی سورتوں کی مشق کیجیے، ایک وقت میں ایک قاعدے پر توجہ دیتے ہوئے۔
- اچھے قاریوں کی تلاوت سنیے اور اپنی تلاوت سے موازنہ کیجیے۔
صراط اسلامک اکیڈمی کے ساتھ آن لائن تجوید سیکھیں
صراط اسلامک اکیڈمی کے آن لائن تجوید کورس میں یہ قواعد ہر عمر کے طلبہ کو ماہر مرد و خواتین اساتذہ ون ٹو ون لائیو کلاسز میں قدم بہ قدم سکھاتے ہیں۔ بچوں کو سلائیڈز کے ذریعے جدید اور دلچسپ انداز میں سکھایا جاتا ہے، اور ہر نئے طالبِ علم کے لیے 3 دن کی فری ٹرائل کلاس ہے۔
اگر ابھی روانی سے پڑھنا نہیں آتا تو ہمارے قرآن ریڈنگ کورس (نورانی قاعدہ سمیت) سے آغاز کیجیے، اور پھر ترجمۃ القرآن اور حفظ القرآن کے ساتھ سفر جاری رکھیے۔
ابھی ہم سے رابطہ کیجیے: واٹس ایپ: 03224159683 · siratislamic.com@gmail.com · siratislamic.com/contact
آخری بات
تجوید کوئی زیبائش نہیں؛ یہ وہ طریقہ ہے جس پر قرآن نازل ہوا اور جس پر چودہ صدیوں سے اس کی تلاوت ہوتی آ رہی ہے۔ بنیادی قواعد سیکھیے، ایک ایک کر کے ان کی مشق کیجیے، اور کسی ماہر استاد کی نگرانی میں سیکھیے۔ صبر کے ساتھ آپ کی تلاوت نہ صرف درست بلکہ خوب صورت بھی ہو جائے گی، اور ہر حرف اپنا پورا اجر لے کر آئے گا۔